غزل احمد مسعود قریشی راولپنڈی
ہمارا فیصلہ کچھ مختلف ہے
چنا جو راستہ کچھ مختلف ہے
ہماری بات وہ سمجھیں نہ سمجھیں
ہمارا دائرہ کچھ مختلف ہے
وہ پوچھیں کیوں اکیلے ہو سفر میں
سفر کا مرحلہ کچھ مختلف ہے
نہ دنیا کی روش سے کام اپنا
ہمارا قافلہ کچھ مختلف ہے
کبھی دیکھو محبت کو نبھا کر
وفا کا ذائقہ کچھ مختلف ہے
مزید دیکھیں
غزل احمد مسعود قریشی راولپنڈی
میرے بارے میں بھی اس نے کبھی سوچا ہوگا
اس کی ہستی میں مرے پیار کا نغمہ ہوگا
رات بھر چاند کو تکتی رہی میری آنکھیں
ایسا لگتا تھا مرے بن وہ بھی تنہا ہو گا
عشق کی رہ میں بہاروں نے قدم رکھے ہیں
چاہتوں کا بھی چمن سے کوئی رشتہ ہوگا
تیری یادوں کی گھٹا ساتھ رہی ہے میرے
اک یقیں ہے تو نہ مجھ کو کبھی بھولا ہوگا
دل میں تصویر تری میں نے لگا رکھی ہے
تو بھی باتیں مری تصویر سے کرتا ہو گا
مزید دیکھیںمیرے بارے میں بھی اس نے کبھی سوچا ہوگا
اس کی ہستی میں مرے پیار کا نغمہ ہوگا
رات بھر چاند کو تکتی رہی میری آنکھیں
ایسا لگتا تھا مرے بن وہ بھی تنہا ہو گا
عشق کی رہ میں بہاروں نے قدم رکھے ہیں
چاہتوں کا بھی چمن سے کوئی رشتہ ہوگا
تیری یادوں کی گھٹا ساتھ رہی ہے میرے
اک یقیں ہے تو نہ مجھ کو کبھی بھولا ہوگا
دل میں تصویر تری میں نے لگا رکھی ہے
تو بھی باتیں مری تصویر سے کرتا ہو گا
غزل احمد مسعود قریشی راولپنڈی
دیپ الفت جلا لیا میں نے
عاشقی کو بڑھا لیا میں نے
اپنے لفظوں میں چاشنی بھر کر
اس کو اپنا بنا لیا میں نے
جانتا تھا شفا نہیں اس میں
روگ ایسا لگا لیا میں نے
کسی کے کام آ کے مشکلوں میں
اپنا وعدہ نبھا لیا میں نے
کسی کا عیب جب بھی ہے دیکھا
عیب اس کا چھپا لیا میں نے
سچ کو آگے بڑھانے کی خاطر
اپنا جیون لٹا لیا میں نے
غزل احمد مسعود قریشی
دل میں مہکا ہے ترا پیار غزل کہنے دے
مجھ کو کرنا ہے یہ اظہار غزل کہنے دے
آنکھوں آنکھوں میں ہوئی دل کو محبت تجھ سے
تو بھی کر لے یہی اقرار غزل کہنے دے
تجھ سے ملنے کی تمنا ہوئی رقصاں دل میں
ہو ترا وصل مرے یار غزل کہنے دے
چاند راتوں میں تجھے یاد کیا ہے میں نے
ذکر کرتے مرے اشعار غزل کہنے دے
روشنی ہوتی ہے الفت کے چراغوں سے سدا
پھر بھی یہ راہ ہے پر خار غزل کہنے دے
مزید دیکھیںدل میں مہکا ہے ترا پیار غزل کہنے دے
مجھ کو کرنا ہے یہ اظہار غزل کہنے دے
آنکھوں آنکھوں میں ہوئی دل کو محبت تجھ سے
تو بھی کر لے یہی اقرار غزل کہنے دے
تجھ سے ملنے کی تمنا ہوئی رقصاں دل میں
ہو ترا وصل مرے یار غزل کہنے دے
چاند راتوں میں تجھے یاد کیا ہے میں نے
ذکر کرتے مرے اشعار غزل کہنے دے
روشنی ہوتی ہے الفت کے چراغوں سے سدا
پھر بھی یہ راہ ہے پر خار غزل کہنے دے
غزل احمد مسعود قریشی راولپنڈی
کیا خبر تھی یہاں دستور نرالے ہوں گے
راہ منزل میں مرے پاؤں میں چھالے ہوں گے
عشق ہم نے ہی نہیں صرف کیا دنیا میں
اس کے افسانوں کے کتنے ہی حوالے ہوں گے
عمر گزری ہے مری ہجر میں تیرے اکثر
تو جو مل جائے مرے دل میں اجالے ہونگے
زخم دنیا نے دیے مجھ کو محبت میں سدا
ان لگے زخموں کے اک دن تو ازالے ہوں گے
جب کبھی بام پہ وہ آئے ادا کے ہمراہ
کیسے عشاق نے دل سنبھالے ہوں گے
یاد آتی ہے وہ ممتا وہ محبت اب بھی
میری قسمت میں لکھے ماں کے نوالے ہوں گے
غزل احمد مسعود قریشی راولپنڈی
فضا میں نغمگی ہے روشنی ہے
تمھاری دید سے ہی زندگی ہے
تمھاری یاد کا ساون ہے برسا
اسی برسات میں کی شاعری ہے
بجا ہے ساز الفت کا جگر میں
فضائے دل میں دیکھی نغمگی ہے
امیدوں کے پرندے اڑ گئے ہیں
اداسی کی ہوا پھر سے چلی ہے
حسیں موسم صدائیں دے رہا ہے
چلے آؤ کہ رت جانے لگی ہے
کہانی درد کی کس کو سناؤں
جو اپنا تھا وہی اب اجنبی ہے ۔
مزید دیکھیںفضا میں نغمگی ہے روشنی ہے
تمھاری دید سے ہی زندگی ہے
تمھاری یاد کا ساون ہے برسا
اسی برسات میں کی شاعری ہے
بجا ہے ساز الفت کا جگر میں
فضائے دل میں دیکھی نغمگی ہے
امیدوں کے پرندے اڑ گئے ہیں
اداسی کی ہوا پھر سے چلی ہے
حسیں موسم صدائیں دے رہا ہے
چلے آؤ کہ رت جانے لگی ہے
کہانی درد کی کس کو سناؤں
جو اپنا تھا وہی اب اجنبی ہے ۔
غزل احمد مسعود قریشی راولپنڈی
تم اس قدر حسیں ہو تمھیں دیکھتا رہوں
دل میں مرے قریں ہو تمھیں دیکھتا رہوں
دریائے عشق میں جو چمکتا ہے ہر گھڑی
تم ایسا اک نگیں ہو تمھیں دیکھتا رہوں
جس میں کہے ہیں شعر محبت کے بے شمار
تم وہ مری زمیں ہو تمھیں دیکھتا رہوں
یہ بات جانتے ہی نہیں تم ابھی تلک
تم کتنی دل نشیں ہو تمھیں دیکھتا رہوں
چرچے ہیں جس کے حسن کے چاروں طرف یہاں
تم وہ ہی مہ جبیں ہو تمھیں دیکھتا رہوں
مزید دیکھیںتم اس قدر حسیں ہو تمھیں دیکھتا رہوں
دل میں مرے قریں ہو تمھیں دیکھتا رہوں
دریائے عشق میں جو چمکتا ہے ہر گھڑی
تم ایسا اک نگیں ہو تمھیں دیکھتا رہوں
جس میں کہے ہیں شعر محبت کے بے شمار
تم وہ مری زمیں ہو تمھیں دیکھتا رہوں
یہ بات جانتے ہی نہیں تم ابھی تلک
تم کتنی دل نشیں ہو تمھیں دیکھتا رہوں
چرچے ہیں جس کے حسن کے چاروں طرف یہاں
تم وہ ہی مہ جبیں ہو تمھیں دیکھتا رہوں
غزل احمد مسعود قریشی راولپنڈی
محبت کے نگر میں روشنی ہے
مہکتی اس میں میری شاعر ی ہے
ستم سہہ کر بھی لب پر خامشی ہے
یہاں مجبور کتنا آدمی ہے
کسی کے کام آنا مسکرانا
سبق دیتی ہمیں یہ زندگی ہے
چمن یہ کہہ رہا ہے گنگنا کر
سبھی پھولوں میں دیکھو تازگی ہے
نہیں ہے چین میرے دل کو اک پل
بچھڑ کر اس سے کیسی بے کلی ہے
جو اپنا تھا وہی دشمن ہوا ہے
عجب اس دور کی یہ دو ستی ہے
سناؤں حال دل کا اس کو کیسے
مزید دیکھیںمحبت کے نگر میں روشنی ہے
مہکتی اس میں میری شاعر ی ہے
ستم سہہ کر بھی لب پر خامشی ہے
یہاں مجبور کتنا آدمی ہے
کسی کے کام آنا مسکرانا
سبق دیتی ہمیں یہ زندگی ہے
چمن یہ کہہ رہا ہے گنگنا کر
سبھی پھولوں میں دیکھو تازگی ہے
نہیں ہے چین میرے دل کو اک پل
بچھڑ کر اس سے کیسی بے کلی ہے
جو اپنا تھا وہی دشمن ہوا ہے
عجب اس دور کی یہ دو ستی ہے
سناؤں حال دل کا اس کو کیسے
غزل — احمد مسعود قریشی
وہ مرے دل کی ہر اک بات سمجھتے ہوں گے
آنکھوں آنکھوں میں ملاقات سمجھتے ہوں گے
موسمِ ہجر گزر جائے گا یادوں میں ہی
وہ مری اشک فشاں رات سمجھتے ہوں گے
دل کے قرطاس پہ لکھی تھیں عبارات میں نے
وہ مرے سوختہ جذبات سمجھتے ہوں گے
سازِ ہستی کو بجاتا رہا تنہا ہو کر
وہ مرے درد کے نغمات سمجھتے ہوں گے
گزری یادوں کو بسایا ہے جگر میں اپنے
ساتھ بیتے ہوئے لمحات سمجھتے ہوں گے
غزل احمد مسعود قریشی
یہ محبت ہمیں قسمت سے عطا ہوتی ہے
اس میں شامل کسی دلبر کی رضا ہوتی ہے
جب نظر ملتی ہے اس سے تو یہ لگتا ہے مجھے
آنکھ سے آنکھ کے رستے بھی دعا ہوتی ہے
دل کی بستی میں جو آ جائے وہ رہتا ہے سدا
اس مسافر کی نہیں راہ جدا ہوتی ہے
ہم نے مانگے تھے فقط پیار کے دو پل اس سے
پر محبت میں سبھی عمر فنا ہوتی ہے
جو بچھڑ جائے وہ یادوں میں بسا رہتا ہے
دل کے ہر گوشے میں اس کی تو جگہ ہوتی ہے
مزید دیکھیںیہ محبت ہمیں قسمت سے عطا ہوتی ہے
اس میں شامل کسی دلبر کی رضا ہوتی ہے
جب نظر ملتی ہے اس سے تو یہ لگتا ہے مجھے
آنکھ سے آنکھ کے رستے بھی دعا ہوتی ہے
دل کی بستی میں جو آ جائے وہ رہتا ہے سدا
اس مسافر کی نہیں راہ جدا ہوتی ہے
ہم نے مانگے تھے فقط پیار کے دو پل اس سے
پر محبت میں سبھی عمر فنا ہوتی ہے
جو بچھڑ جائے وہ یادوں میں بسا رہتا ہے
دل کے ہر گوشے میں اس کی تو جگہ ہوتی ہے